29 ستمبر 2012 - 20:30

میانمار میں شدت پسند بودھسٹوں کی جانب سے مسلمانوں پر حملے جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بود دہشتگردوں نے کئی مسلم علاقوں کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے۔

ابنا: اطلاعات کے مطابق مسلح بودھسٹوں نے آراکان علاقے میں مسلمانوں پر ایک بار پھر حملہ کرکے انکے گھروں کو جلا دیا ہے۔ مسلح بودھسٹوں نے حکومت سے مطالبہ ہے کہ مسلمانوں کی شہریت ختم کرکے انہیں ملک بدر کیا جائے۔ رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ مسلمان اس علاقے میں بے گھر ہوئے ہیں جن میں 80 ہزار میانمار کے شمال مغربی علاقے میں پناہ گزینوں کے کیمپ میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ادہر ریڈیو تہران کی بنگلا سروس کے رپورٹر نے ڈھاکہ سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ میانمار کی سرکاری فورسز کی جانب سے بدھسٹوں کو بڑے پیمانے پر ہتیاروں کی فراہمی کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکہ نے اپنے پیش نظر اصلاحات کی انجام دہی کے بہانے میانمار پر عائد پابندیاں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ باخبر حلقوں کا کہنا ہے بدہسٹوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عام  اور ان کو دیوار سے لگانے کا کام ہی در اصل کہ امریکہ پیش نظر اصلاحات ہیں کہ جنہیں تھین سین کی حکومت نے انجام دیا ہے۔ جنرل تھین سین، میانمار کے سابق فوجی حکمران تان شوہ ، سابق وزیر اعظم خین نیونت اور ایوان زیرین کے اسپیکر تورا شومان کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جن کو امریکہ نے میانمار کے عوام کو کچلنے کی بناء پر اپنی نام نہاد بلیک لسٹ میں شامل کر رکھا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ دہشتگردی اور انسانی حقوق کے سلسلے میں دوہرے معیار کا حامل ہے کیونکہ دہشتگردی سے مقابلے اور انسانی حقوق کے تحفظ پر مبنی امریکہ کا دعوی دوسرے ممالک کے امور میں مداخلت کا ایک بہانہ ہے۔ یہی وجہ کہ  جس وقت  میانمار میں مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا تھا اور ان کے گھروں کو جلایا جارہا تھا تو امریکہ نے ہرگز ان اقدامات کی مذمت نہیں کی تھی۔ امریکہ کے اس روئیے سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی حکام میانمار کے مسلمانوں کی مشکلات اور ان کے ساتھ اختیار کۓ جانے والے میانمار کی حکومت کے رویۓ کو بھلا دینا چاہتی ہے۔درایں اثنا بنگلہ دیش کی سرحد پر واقع آباد بدھسٹوں کے مندروں پر اس وقت بنگلہ دیشی مسلمانوں نے دھاوا بولدیا جب فیس بک پر ایک انتہا پسند بدھسٹ نے اسلام کے خلاف توہین آمیز خاکے شایع کئے۔ اطلاعات کے مطابق اس علاقے میں حالات پر قابو پانے کے لئے حکومت بنگلہ دیش نے کرفیو لگادیا ہے۔یکم اگست کو نسانی حقوق  کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام پر 56 صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ جاری کی تھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا میانمار میں حکومت اور فوج کی سرپرستی میں بودھ اکثریت نے مسلمانوں پر حملے کئے اور ان کے گھر جلادئیے جبکہ  لاکھوں مسلمان بے سروسامانی کے عالم میں نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام سے ظاہر ہوتا ہے کہ میانمار میں تشدد کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کےخصوصی رپورٹر نے بھی پولیس اوربودائی انتہاپسندوں کےحملوں پرتشویش ظاہرکرتےہوئے روہنگیامسلمانوں کی صورت حال پرعالمی توجہ دیئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی تھے۔ اگست کے پہلے ہفتے میںجاری ہونے والی اس رپورٹ میں صوبہ راخین میں مسلمانوں کےخلاف حکومت میانمار کی کاروائي پولیس کےذریعے تشدد ، بڑےپیمانےپرگرفتاری، جنسی زیادتی ، اورقتل جیسے جرائم کا انکشاف کیا گیا تھا۔ میانمار کے علما کاکہناہے کہ ان کے ملک میں مسلمانوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے اقوام متحدہ اور اسلامی سربراہی کانفرنس مداخلت کریں۔17رواں ماہ کی 17 تاریخ کو پاکستان کے دارالحکومت  اسلام آباد میں برماکے علماء نےپریس کانفرنس میں کہاکہ برما میں مسلمانوں پرجاری تشدد تاریخ کا سیاہ باب ہے۔  اس موقع پر دینی مدارس کی تنظیم وفاق المدارس کے ڈپٹی جنرل کاکہناتھاکہ مسلمان ملکوں کے سر براہ اپنے ممالک میں برمی سفارت خانے بند کریں۔جمعیت الخیریہ ارکان برما کے رہ نما مولانا عبدالقدوس نے کہا کہ برما میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔برماکے صوبے ارکان کوآزادملک قراردیاجائے۔

.......

/169